ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / شام میں جنگ بندی معاہدے کی نئی تفصیل منظرعام پر آگئی

شام میں جنگ بندی معاہدے کی نئی تفصیل منظرعام پر آگئی

Thu, 15 Sep 2016 17:34:50    S.O. News Service

دمشق ، 15؍ستمبر(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )امریکہ اور روس کی ثالثی میں شام میں جنگ بندی کے لیے طے شدہ سمجھوتے میں شمالی شہر حلب میں تشدد کے خاتمے کے لیے سب سے زیادہ تفصیل دی گئی ہے جبکہ اس میں امریکا اور روس کے درمیان طویل المیعاد جنگ بندی کی نگرانی کے لیے نئی فوجی شراکت داری سے متعلق بہت کم تفصیل کا ذکر ہے۔اس سمجھوتے میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت اور حزب اختلاف کے لیے بہت زیادہ فنی و عملی اقدامات پر زوردیا گیا ہے۔اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ حلب کی جانب جانے والی ایک مرکزی شاہراہ سے کتنا پیچھے ہٹیں گے اور ان کے ہتھیاروں کو دوبارہ کہاں نصب کرنے کی اجازت ہوگی۔اس جنگ بندی سمجھوتے پر گذشتہ جمعہ کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے درمیان کئی گھنٹے کے مذاکرات کے بعد اتفاق ہوا تھا۔اس کی تفصیل اتنی گنجلک ہے کہ سوموار کی شام اس پر عمل درآمد کے آغاز کے بعد جان کیری بھی صحافیوں سے گفتگو میں اس کے بارے میں واضح انداز میں کچھ کہنے سے قاصر رہے تھے۔امریکی حکام کے مطابق اس سمجھوتے کی چیدہ چیدہ تفصیل حسب ذیل ہے:
1۔ سوموار کو اسد حکومت اور حزب اختلاف کی فورسز کو کسی بھی قسم کے ہتھیاروں بشمول فضائی بمباری ، راکٹوں ،مارٹروں اور ٹینک شکن گائیڈڈ میزائلوں سے حملے روک دینے چاہییں۔2۔ طرفین کو تمام ضرورت مند افراد تک تیز رفتار ،محفوظ ،بلاروک ٹوک اور مستقل طور پر انسانی امداد بہم پہنچانے کی اجازت دینی چاہیے۔3۔ اگر کسی فریق کو دفاع کی ضرورت پیش آئے تو فوجی قوت کا متناسب استعمال کیا جانا چاہیے۔4۔ حلب کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ کاستیلو روڈ پر دو چیک پوائنٹس بنائے جائیں گے۔ابتدائی طور پر شامی انجمن ہلال احمر ان چیک پوائنٹس کا انتظام سنبھالے گی اور وہاں بیس سے زیادہ مسلح افراد تعینات نہیں ہوں گے۔ سکیورٹی کا حکومت اور حزب اختلاف کی فورسز کی باہمی رضامندی سے انتظام کیا جائے گا۔اقوام متحدہ ان اہلکاروں کی نگرانی کرے گی۔5۔ سرکاری فورسز کو اپنے اہلکاروں ،بھاری ہتھیاروں اور دوسرے اسلحہ کو کاستیلو روڈ کے مختلف مقامات سے پیچھے ہٹانا ہوگا۔بعض جگہوں سے ٹینکوں ،توپ خانے اور مارٹروں کو کم سے کم ساڑھے تین کلومیٹر یا دو میل سے زیادہ فاصلے تک پیچھے ہٹانا ہوگا۔نیز ہلکے ہتھیاروں والے فوجیوں کو پانچ سو گز تک پیچھے ہٹنا ہوگا۔6۔ حزب اختلاف کی فورسز کو بھی سرکاری فوج کی طرح کاستیلو روڈ سے مشرقی جانب پیچھے ہٹنا ہوگا لیکن ان کے انخلاء کا انحصار کرد فورسز کی واپسی پر ہوگا۔اگر کرد جنگجو 500 گز پیچھے ہٹتے ہیں تو حزب اختلاف کی فورسز کو بھی اسی طرح اتنے فاصلے تک پیچھے ہٹں ا ہو گا۔7۔ حزب اختلاف کی فورسز کو القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کو غیرفوجی علاقوں کی جانب پیش قدمی سے حتیٰ الوسع روکنے کی کوشش کرنا ہوگی۔تمام شامیوں بشمول حزب اختلاف کو کاستیلو روڈ کے ذریعے انخلاء کی اجازت ہونی چاہیے۔جنگجوؤں کو انخلاء کے وقت سے پہلے اقوام متحدہ کے حکام سے رابطہ کرنا چاہیے۔8۔ روس اور امریکہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔یہ دونوں ممالک جنگ بندی کے مسلسل سات روز کے بعد مشترکہ عمل درآمد مرکز کے قیام کا اعلان کریں گے۔البتہ اس مرکز کے لیے سوموار سے کام کا آغاز ہوجانا چاہیے۔9۔ نیز امریکہ اور روس داعش اور القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے لیے قابل عمل اہداف کا تعیّن کریں گے تاکہ مرکز کے قیام کے فوری بعد ان کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز ہوسکے۔ان دونوں ملکوں کی جانب سے داعش اور القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف پہلے حملے کے فوری بعد شامی فضائیہ کے لڑاکا طیارے حزب اختلاف پر حملے روک دیں گے۔10۔ آخری شق کے مطابق امریکہ اور روس دونوں میں سے کوئی بھی اس سمجھوتے کو اپنے طور پر خیرباد کہہ سکتا ہے۔


Share: